چمن نہیں ہیں مری زندگی میں صحرا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاچمن نہیں ہیں مری زندگی میں صحرا ہے
بتاؤں کیسے مجھے مشکلات کیا کیا ہے
مرے لبوں کو تو عادت ہے مسکرانے کی
چھپائے دل میں مگر میں نے غم کے دریا ہے
کبھی تھی ایک حقیقت کہ تجھ سے ملنا تھا
اور اب تو خواب ہی تیرے ترا نظارہ ہے
مجھے رلا کے تو رویا تو اس سے کیا حاصل
کیا ترے آنسو مرے درد کا مداوا ہے
ہوں ان کے ساتھ بہت خوش ہے گرچہ تنہائی
کہ میرے شعر ہی میری حسین دنیاہے
خوشی پہ ہو یا کسی غم کے موقعہ پہ کوئی
ہماری ساری ہی رسمیں تو ہی دکھاوا ہے
غریب خانہ بدوشوں سے پیار کر وشمہ
یہ آخرت میں ترے بہترین وکلا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






