چند بے حسوں نے مل کر پُرکی کو شاعر بنا دیا
Poet: purki By: m.hassan, karachiغنڈہ گردی کو جس نے بھی تحفظ دی اپنی صفوں میں
اُس انجمن نے سمجھ لو پوری قوم کا جنازہ نکال دیا
انجمن کے الیکشن اور ملک کے الیکشن میں اب کوئی فرق نہیں رہا
دھاندلی کے اس مزاج نے الیکشن کو سلکشن بنا دیا
جوانی ہے دیوانی اور قوم بھی دیوانی
اس دیوانیت نے مجھے گلیوں کا راجا بنادیا
ہے کوئی حسّاس دل جو ہم پہ ترس کھائے
اس بے بسی نے میری قوم کو غضبناک بنادیا
پھر بھی بہت بہتر ہے میری قوم دیگر قوموں سے
مہنگائی اوربے روزگاری نے انہیں تارہ دکھا دیا
شاعر ہوں میں زندوں کا مجھے مُردوں سے نہ ملاؤ
مردہ دلوں کو زندوں کا لیڈر بنا دیا
قرآن کی تعلیم ہے فرقہ واریت سے دور رہو
مگر مُلّا ئیت نے ایک کو دوسرے کا دشمن بنادیا
کھاؤ پیؤ چندہ بٹورو یہ ان کا ہے اصل ماٹو
انکی اسی سوچ نے قوم کوخالی ڈبّہ بنا دیا
اگرہمارا حال یوں ہی رہے جس طرح سے ہے
ہمارے رہبروں کی سوچ نے ہمیں گداگر بنادیا
قوم اب کسی رہزن کے دھوکے میں نہیں آئیں گے ہرگز
کچھ باشعور لوگوں نے ان کے چہروں سے نقاب اٹھادیا
جولوگ زندوں سے زیادہ مُردوں کے حقوق کا پاسباں ہوں
ان لوگوں کو زندوں کے حقوق ومسائل کا نگہبان بنا دیا
سب نوجواں بگڑ گئے شارٹ کٹ کی تلاش میں
حکمرانوں کی غفلت نے ان کو باغی بنا دیا
اکثر بٹھک جاتے ہیں اسکول اور کالج سے نکل کر
بے مقصد ریاستی تعلیم نے ان کو طالبان بنا دیا
اصل تعلیم شروع ہوتا ہے انٹر کے بعد مگر
تعلیمی تاجروں نے غریب کو بے بس بنادیا
قوم کے بہت سے ہونہار تعلیم سے ہے محروم
اس محرومیت نے انھیں تھڑے کا عادی بنا دیا
جہاں والدین، قوم اور مملکت سب بے حس ہوں
چند بے حسوں نے مل کر پُرکی کو شاعر بنا دیا
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا
کوئی فیصلہ تو سنا دے اے عادل
اسیری میں جینا ہے توہین میری
مجھے دار پر تو چڑھا دے اے عادل
کہاں عدل مجھ کو زمیں پر ملے گا
کوئی راستہ ہی دکھا دے اے عادل
مجھے اگلی تاریخ میں اب خدارا
قیامت کا دن ہی بتا دے اے عادل
وہ مجرم ہے اس کی جگہ ہے کٹہرا
اسے تخت سے تو اٹھا دے اے عادل
رِعایا پہ قانون جو چل رہا ہے
وہی حاکموں پہ چلا دے اے عادل
فقط جو کتابوں میں دم لے رہا ہے
وہ قانون سارا جلا دے اے عادل
کہیں میں نہ اپنی عدالت لگا لوں
مرے مجرموں کو سزا دے اے عادل
وکیلوں کا بکنا عیاں ہو چکا ہے
تو اپنی حقیقت دکھا دے اے عادل
کبھی بھاگ پائیں نہ جس سے یہ غاصب
کوئی جیل ایسی بنا دے اے عادل
جہاں قاتل باعزت اور مظلوم بے سکون یہاں
دلیل اگر سچ ہو، تو جرم بن جاتی ہے
جھوٹ اگر بااثر ہو، قسم کھا لی جاتی ہے
لب سِل گئے، قلم توڑا گیا، حق کی بات ٹھکرائی گئی
پھر بھی انصاف کے مندر میں، رام کہانی سنائی گئی
کمرہ عدالت میں منصف تو تھا مگر انصاف نہ تھا
ایک اسٹیج تھا ایک اسکرپٹ تھا ڈر کا تماشا تھا
فیصلے طے تھے پہلے سے فیصلہ ساز بعد میں آیا
سچ کے گواہ مر گئے اور جھوٹا گواہی لے آیا
کیا یاد ہے وہ شخص؟ جو حرفِ حق کہتا تھا
آج اس کا سایہ بھی قید ہے وہ خود کیا کہتا تھا؟
یہ نظام، یہ دربار، یہ نیلامی کا موسم ہے
وہ بازار ہے جہاں سچ کی بولی لگتی ہر دم ہے
مگر سن لو...
اندھوں کی عدالتیں رہتی نہیں قائم ہمیشہ
اندھیرا حد سے بڑھے ضرور سورج چمکتا ہے وہاں
وہ جو سچ ہے وہ اک دن لوٹ کر آئے گا
جو فیصلہ ظالم نے دیا — وقت اُسے مٹائے گا






