چند منتخب اشعار
Poet: Syed Nadeem ul Hassan Nadeem By: UZMA AHMAD, Lahoreہم نے وہ لفظ شعر کی زینت بنا دیا
جِس کو زباں پہ لا نہ سکے تھے حجاب میں
------------------------------------------
میرا وجود پیکرِ اَخلاص تھا ندیم
رکھا ہے پِھر بھی وقت نے مجھ کو عتاب میں
------------------------------------------
اس کا قبضہ ہے میرے دِل پہ ندیم
اپنی چیزیں بھی اب پرائی ہیں
------------------------------------------
میں تو اپنی ہمّت سے بچ نِکلا ہوں
ورنہ اس کے زخم تو خاصے گہرے تھے
------------------------------------------
زیست کرنا سیکھا گیا ہے کوئی
دِل میں چپکے سے آگیا ہے کوئی
------------------------------------------
جو میرا ہو کے بھی نہ میرا تھا
اس کو اپنا بنا گیا ہے کوئی
------------------------------------------
جب بھی منزل کی راہ لی میں نے
میرے رستے میں آگیا ہے کوئی
------------------------------------------
ظلم و ستم کی یہ بھی ہھ اِک انتہا کہ آپ
ترکِ تعلقات پہ بھی ہاں نہ کر سکے
------------------------------------------
جنوں کی راہ میں ناکامیوں کا ہم کو غم کیوں ہو
جو اہلِ دِل ہیں ان کو شکوہءِ اہلِ ستم کیوں ہو
------------------------------------------
میں ابھی تک ہوں اِس لئے زندہ
آپ کا انتظار باقی ہے
------------------------------------------
پا کر بھی اس کو پا نہ سکا آج تک ندیم
وابستہ جِس سے ہے میرے شعر و سخن کی بات
------------------------------------------
بانٹا ہے اِس طرح ہمیں تقدیر نے ندیم
اپنائیں گے کِسی کو جئیں گے کِسی کے ساتھ
------------------------------------------
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






