چندا اور چاندنی ۔۔۔۔۔
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.Siddiqui, Lucknow چندا اور چاندنی ہیں تاروں کی مہمانی میں
آؤ کچھ خواب بنیں منظر رومانی میں
اب حجابوں پہ سزا ملتی ہے جرمانے ہیں
شہرت و زر ہے فقط جسم کی عریانی میں
کوئی پیرول پہ ہے کوئی ضمانت پہ رہا
مجرم آزاد ہیں قانون کی نگرانی میں
جام لے جاتے ہیں وہ ساقیا ہونٹوں کے قریب
دیکھنا آگ نہ لگ جائے کہیں پانی میں
تھوڑی مہلت ملک ا لموت ہمیں بھی دے دے
ہو نہ پائے ہے سفر بے سر و سامانی میں
سلسلہ تیری نوازش کا وسیع ہے یا رب
بھول جاؤں نہ تجھے زیست کی آسانی میں
بھولے دل میرے کبھی تو دیا کر عقل کا ساتھ
بازی ہارے ہے حسن تیری ہی نادانی میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






