چوروں کی سیاست کا خاتمہ ضروری ہے
Poet: purki By: M.Hassan, karachiچوروں کی سیاست کا خاتمہ ضروری ہے
چمچوں کی حکومت کا خاتمہ ضروری ہے
اس کے لئے عوام کا اتحاد ضروری ہے
اور پی ٹی آئی کو سپورٹ کرنا ضروری ہے
اس ملک سے کرپشن کے خاتمہ کے لئے
کرپشن کے بادشاہ کا خاتمہ ضروری ہے
اپنے وطن کو چھڑاؤ مغلوں کے وارثوں سے
اس کیلئے تحریک انصاف کی فتح ضروری ہے
بھتہ خوروں اور لٹیروں سے نجات پانے کیلئے
عوام کا تمام تر تعصبات سے نجات ضروری ہے
قوم کو ایک لڑی میں پرونے کے لئے
فرقہ پرست مولویوں سے نجات ضروری ہے
صحیح معنوں میں اسلام کو سمجھنے کے لئے
صبح و شام قرآن کو سمجھکر پڑھنا ضروری ہے
ایک دوسرے کی دل کی کدورتوں کومٹانے کیلئے
ایک دوسرے کوصبح و شام سلام کرنا ضروری ہے
ان منافق سیاستدانوں کو سمجھنے کیلئے
ان کی مصروفیات کو سمجھنا ضروری ہے
اپنا سارا مال رکھا ہے فارن بینکوں میں
اس مال کا ملک میں لانا بہت ضروری ہے
اگر ہمدردی ہے تمہیں اپنے پیارے وطن سے
تواپنا ووٹ سوچ سمجھ کر دینا ضروری ہے
اگر چاہتے ہو کہ بدلے قسمت تیرے بچوں کی
تو انھیں اچھی تعلیم دینا بہت ضروری ہے
اگر ہو سرمایہ تیرے پاس تو بڑھاؤ اپنی آبادی
اگر تم غریب ہو تو پھر بربادی ضروری ہے
اگر چاہتے ہو دنیا میں امن و محبت
تو جاہل ملاؤں کا خاتمہ ضروری ہے
اگر چاہتے ہو کہ تیرا جیب رہے ہمیشہ خالی
تو جعلی مسیحاؤں سے علاج ضروری ہے
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






