یارب میرے عوام کہ اتنا شعور دے
Poet: purki By: m.hassan, karachiیا رب میرے عوام کو اتنا شعور دے
سب مل کر ان لٹیروں کو شکست دے
آنے والا الیکشن پھر دے رہا ہے موقع
ملک دشمنوں کو پھر سے نہ دو تم موقع
سالوں سال سے پھنسے ہیں ہم انکے چنگل میں
اب پھر سے پھنس نہ جانا دوبارہ انکے چکر میں
آزمودہ لوگوں کو پھر سے کبھی نہ آزمانا
آسیب زدہ لوگوں کوپھر سے نہ تم بٹھانا
مومن کبھی ڈسواتے نہیں اک ہی سوراخ سے دو بار
سالوں کے ڈسنے والوں سے پھر خود کو نہ ڈسوانا
انسان ہونے کے ناطے ہمارے مسائل ہیں مشترک
ان ظالموں کے جھانسوں میں آکر خود کو نہ بانٹ لینا
ہم انسان ہیں ہمیں انسان ہی رہنے دو اے پیشہ ورو
ہمیں رنگ و نسل فرقہ و زاتوں میں نہ بانٹو لوگو
یہ نسل و رنگ فقط تیری پہچان کے لئے ہیں اور کچھ بھی نہیں
تیری طاقت و پروازہیں فقط تیرے آپس کے اتحاد و اتفاق میں
سیاستداں ہیں متحد صرف حکمرانی کے لئے
کاش تم بھی ہوتے متحد اپنا حق لینے کے لئے
ظالموں کی حکمرانی فقط ہمارا انتشار ہے
ہم ہونگے متحد تو یہ فقظ اک غبار ہے
ہمیں لڑا لڑا کر یہ ملک دشمن بہت مزے میں ہیں
جس دن ہم اک ہو جائے وہ دن ان کی موت ہے
ملک کے سارے وسائل پر آج ہیں ان کا قبضہ
معمولی چھینک بھی آئے تویہ بھاگتے ہیں امریکہ
سرکاری ہسپتالوں پر ہیں مسیحاؤں کا قبضہ
عوام کو ملنے والی دواؤں پر مافیاؤں کا قبضہ
پورے ملک پر غنڈوں اور بدمعاشوں کا قبضہ
ملک کے تمام وسائل پر شیطانوں کا قبضہ
اب پھر موقع مل رہا ہے ان سے جان چھڑانے کا
ایک بار متحد ہوکر دیکھواپنی طاقت و عظمت کا
روز روز کے مرنے سے تو بہتر ہے اک دفعہ مرنا
پرچوں کی موت سے بہتر ہے تھوک کی موت مرنا
اپنے ووٹوں کی قوت سے تم ان چوروں کو بھگادو
اچھے لوگوں کو ووٹ دے کر تم خود کو سنوارو
اس دور میں ووٹ کی جو قوت ہے تیرے پاس
اس ووٹ کی قوت سے تم اپنے ملک کو بچا لو
اس ملک کو بنایا ہے سنوارا ہے ان فاقہ کشوں نے
اس ملک کو بچانا ہے تو فاقہ کش مزدور کو بچالو
یہ ملک ہمارا ہے اور یہ خاک ہے ہماری
اس خاک میں خاک ہوکراس خاک کو بچالو
امید بر آئیں گی مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا
ہے نیا جذبہ ہے نیا ولولہ ان کے اندر عجیب طرح
گول ہوتے نہیں ان کھلاڑیوں سے نمائندوں کی طرح
رفتہ رفتہ یہ کھلاڑی ڈھل چکے ہیں زوال کی جانب
نظر نہیں آتی ان کو بھی گول کی کوئی صورت
ہے انجام سے غافل ہر طرح کے چیمپین بھی
انکل سیم کے حواری بھی ہیں بدمست ہاتھی
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا






