چھوڑ روتا ہوا جاتے ہو غضب کرتے ہو
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiچھوڑ روتا ہوا جاتے ہو غضب کرتے ہو
غیر کی بزم سجاتے ہو غضب کرتے ہو
بیٹھتے ہو جو رقیبوں کی بغل میں دن رات
یونہی دل روز دکھاتے ہو غضب کرتے ہو
آپ کی سادگی ہے اہلِ محبت کو بہت
آنکھ کاجل سے سجاتے ہو غضب کرتے ہو
یاد آنا ہے تو دن میں بھی تو آ سکتے ہو
رات بھر مجھ کو جگاتے ہو غضب کرتے ہو
کیسے وہ جان گیا درد مرا جس نے کہا
اشک آنکھوں میں چھپاتے ہو غضب کرتے ہو
آنکھوں سے پینے نہیں دیتے ہو تکنے تو دو
جو حجاب ان پہ گراتے ہو غضب کرتے ہو
ایک یاد ان کی ہے رکھتی ہے جو مدہوش ہمیں
ساقی ایسے میں پلاتے ہو غضب کرتے ہو
سارا دن یاد ستاتی ہے تمہاری ہم کو
رات پھر خواب میں آتے ہو غضب کرتے ہو
ہم تمہیں شعر سنانے کا ہیں کہتے باقرؔ
تم ہمیں درد سناتے ہو غضب کرتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






