چھوڑ کر چلے گئے
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Omanبیچ دوراہے میں لا کر اکیلا چھوڑ کر چلے گئے
وعدے ساتھ رہنے کے کیے اور نبھائے بغیر چلے گئے
تم نے مجھے سمجھا ہی نہیں اس لئیے اچانک
بے وفائی کا داغ لگا کر روتے ہوئے چلے گئے
کتنی مشکلوں سے پایا تھا تمہیں دنیا کی بھیڑ سے
اپنی ہستی کو بھلا بیٹھے تمہیں دل میں بسا بیٹھے
زمانے کے الزام بھی سہے تیرے لئے خندہ پیشانی سے
اتنے کرب اُٹھائے جس کے لئے وہ بھی الزام لگائے چلے گئے
اپنی دلکش کشش سے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اُس نے
کئی بار ہٹایا قدموں کو تیری طرف پھر بھی چل دیے
تیرے ساتھ کی خوشگواری سے کیسا مہک سا جاتا میں
میرے ہونٹوں پر پھیلی مسکراہٹ کا رُخ بدل کر چلے گئے
مجھے چاہت کا دھوکا دیا میرے ارمانوں سے کھیلتے رہے
پیار کے سہانے خواب دیے مہتاب کہہ کر پکارتے رہے
میرے شدت محبت پر شک تھا کیوں اتنی دور چلتے رہے
میں کتنا قرار میں تھا مجھے بے چین کر کے چلے گئے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






