چھوڑو نفرت کی سبھی باتوں کو اے انسانو
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zhahid Sheikh, Lahore,Pakistanچھوڑو نفرت کی سبھی باتوں کو اے انسانوں
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
لے کے ہم ساتھ چلیں مفلسوں، لاچاروں کو
بن کے دنیا میں رہیں ان کے سہاروں کی طرح
ایک تاریکی میں بستے رہے انسان کئی
جن کے لٹتے رہے ہر دور میں ارمان کئی
زیست میں جن کے اندھیرے رہے غاروں کی طرح
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
کچھ بھی حاصل نہ ہوا جنگوں سے اب تک ہم کو
ہم پھیلاتے ہیں ہر اک شخص کی خاطر غم کو
جیتے جی مرتے ہیں سب ظلم کے ماروں کی طرح
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
پیار سے بڑھ کے ہمیں کوئی بھی اب کام نہ ہو
سب ترقی ہی کریں کوئی بھی ناکام نہ ہو
ایک دوجے کے لیے چمکیں ستاروں کی طرح
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
چھوڑو نفرت کی سبھی باتوں کو اے انسانوں
آؤ ہم پیار کریں لوگوں سے پیاروں کی طرح
لے کے ہم ساتھ چلیں مفلسوں ، لاچاروں کو
بن کے دنیا میں رہیں ان کے سہاروں کی طرح
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






