چھپائیں تو محبت کو چھپائیں کس طرح آخر
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid sheikh, Lahore Pakistanتمہیں ہم چاہتے ہیں یہ بتائیں کس طرح آخر
جو دل میں بات ہے ہونٹوں پہ لائیں کس طرح آخر
محبت پہ نہیں قابو یہ ہو جاتی ہے چپکے سے
محبت کا مدھر نغمہ سنائیں کس طرح آخر
یہ بے چینی کا عالم آج ہم کو مار نہ ڈالے
تمھاری یاد آئے تو بھلائیں کس طرح آخر
یہ سونا سونا آنگن ہے تمھارا منتظر کب سے
تمھیں دلہن بنا کے گھر میں لائیں کس طرح آخر
اداسی کی فضا چھائی ہوئی ہے روح پر جاناں
تمھارے بن لبوں کو ہم ہنسائیں کس طرح آخر
کبھی تو سرمئی شاموں میں ملنا ہو مقدر میں
انھیں سوچوں میں ہیں تم کو بلائیں کس طرح آخر
ہواؤ ! اب تمہی کچھ ذور سے چلنا شروع کر دو
یہ آنچل اس کے چہرے سے ہٹائیں کس طرح آخر
ہے اظہار محبت میں تو رسوائی کا ڈر زاہد
چھپائیں تو محبت کو چھپائیں کس طرح آخر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






