چین کی نیند

Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Oman

تایکی سی چھائی ہے میری ذات پر
روشنی کا متلاشی ہوں پر میسر نہیں

چوٹ کھاتا ہوں ہر قدم پر زخموں سے چُور ہوں
بہہ رہا ہے خونِ جگر پاس مرہم نہیں

کوئی تو ہو جو احساس کرے میرا
اکیلے پن سے اکتا چکا کسی کا ساتھ نہیں

زندگی کی تلخی کا اب معلوم ہوا مجھے
گرا پڑا ہوں کوئی اٹھانے والا نہیں

کس قدر تکلیف دہ ہے یہ سفر کب ختم ہو
سانس اگرچہ لڑکھڑا رہی پر رکتی نہیں

سمیٹ لوں جزبات کو اتنا آسان تو نہیں
بہار کا موسم ہے میرا دل مگر کھلا نہیں

بہت تکلیف میں ہوں کہاں ہے میرے ہمنوا
کوئی تو مسیحا ملے حالت اب سنبھلتی نہیں

تھک چکا ہوں بیگانگی کی سی کیفیت سے
سب چین کی نیند سویئں مجھے وہ بھی آتی نہیں
 

Rate it:
Views: 608
22 Oct, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL