چھڑا پائیں گے

Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Oman

اب جو ہوئے جدا پھر مل نہ پائیں گے
چاہ کر بھی یہ دل کھل نہ پائیں گے

تم جب بھی ہو گے اداس میں بھی تو تڑپوں گا
تم سے دور ہو کہ بھی کب دور رہ پائیں گے

میں تیری یادوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لوں گا
گزارے ہوئے حسین پل کیسے فراموش کر پائیں گے

میں تو اک بے سروسامان مسافر ہوں کیا میری حقیقت
کانٹوں بھرے سفر میں دامن کیسے بچا پائیں گے

میں اگرچہ اقرارِ وفا نہ کر سکا لیکن تجھے چاہا تو ہے
پیار کی اس حقیقت کو تو وہ بھی نہ جھٹلا پائیں گے

اک اثاثہ بچا ہے میری عمر بھر کی ریاضت کا
وہ بھی جو چھن گیا پھر چاہ کر بھی جی نہ پائیں گے

وہ آج بھی مجھے اپنا سب کچھ مانتے ہیں
بیتی یادوں سے پھر بھلا کیسے پیچھا چھڑا پائیں گے

Rate it:
Views: 871
22 Oct, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL