ڈر
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiعشق کا تھا شوق پر تاثیر سے ڈرتے رہے
رانجھے تھے جتنے یہاں وہ ہیر سے ڈرتے رہے
شعر کہنے کے سوا ہم کو نہ آیا اور کچھ
پھر بھی اپنی شوخی ء تحریر سے ڈرتے رہے
جس کو بھی پلائیں گے وہ زہر ہی تو اگلے گا
اپنے امرت ہی کی ہم تاثیر سے ڈرتے رہے
نام سے اپنے کہیں بدنام ہو جائے نہ وہ
سوچ کر بس عشق کی تشویر سے ڈرتے رہے
ایک خدائے لم یزل غلطی ہوئی ہے ہم سے یہ
کرتے ہیں وعظ اور خود تطہیر سے ڈرتے رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






