ڈر ہے کہ مجھے رنج و الم چھوڑ نہ جائیں

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلا

ڈر ہے کہ مجھے رنج و الم چھوڑ نہ جائیں
ویران حویلی میں یہ غم چھوڑ نہ جائیں

تُو نےتو کیا چھوڑ کے غیروں کے حوالے
کر فکر کہ اب تجھ کو بھی ہم چھوڑ نہ جائیں

اے جانِ تمنا! مرے گاؤں میں اس بار
موسم یہ شقاوت کے ، قدم چھوڑ نہ جائیں

اب کھول دے کھڑکی کہ گھٹن بڑھنے لگی ہے
پنچھی یہاں پنجرے میں ہی دم چھوڑ نہ جائیں

مشکل سے خیالوں کا بسایا ہے جزیرہ
اب ڈر ہے مجھے اہل قلم چھوڑ نہ جائیں

دریا یہ گزرتے ہوئے آنکھوں سے اے وشمہ
جاتے ہوئے ہر سانس کو نم چھوڑ نہ جائیں

Rate it:
Views: 725
18 May, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL