ڈر ہے کہیں زندگی کی شام نا ہو جائے
Poet: Noor By: Noor, Oman Muscatڈر ہے کہیں زندگی کی شام نا ہو جائے
میری موت کی خبر سرعام نا ہو جائے
خبر ہو گئی اگر میرے دیوانے کو
اس کے جینے کی امید نا کام نا ہو جائے
فقط اک امید پر جی رہا ہے وہ
جدائی کے آنسو بھی پی رہا ہے وہ
اپنے انگن کو بسانے کی آس میں
کہیں اس کی یہ آس نا تمام نا ہو جائے
پھولوں کی پنکھڑیاں چن رہا ہے وہ
خوابوں کی پھلجھڑیاں بن رہا ہے وہ
قطرہ قطرہ پگھل بھی رہا ہے وہ
کہیں اس کی یہ عاشقی بدنام نا ہو جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






