ڈرد اب وہ نہیں جو اے دلِ نادان پہلے تھا
Poet: ریحان معتبرؔ By: محمد ریحان, Karachiدرد اب وہ نہیں جو اے دلِ نادان پہلے تھا
کُھلے سر پر ہمارے ایک سائبان پہلے تھا
تمھارے گمشدہ جو خواب ہیں سب ڈھونڈ لاؤں گا
مگر انعام وہ ہی ہے نا جواعلان پہلے تھا
سفیدی آگئی بالوں میں، نہ وہ ہے بات پہلے سی
نہ اب جذبات میں اُٹھتا ہے جو طوفان پہلے تھا
پڑھے لکھوں نے آکر گاؤں کا نقشہ بدل ڈالا
وہاں گھر بن گئے پکے، جہاں میدان پہلے تھا
طبیعت اب کہیں جاکر میری سنبھلی ہے مشکل سے
اے توبہ حال وہ جو عشق کے دوران پہلے تھا
محبت نام ہے اب جسم کی تسکین کا ہمدم
محبت پاک ہے اس پہ میرا ایمان پہلے تھا
نجانے کیا ہُوا کہ تیری تصویریں جلا ڈالیں
جلا اُس کو بھی ڈالا جو میرا دیوان پہلے تھا
یہ جو نظریں جھکائے ایک حُسنِ نازنیں گُزری
وہ میری جان پہلے تھی،میں اُسکی جان پہلے تھا
ہماراساتھ چھوڑا، اب مکافاتِ عمل دیکھو
جہاں پر آج تم ہو معتبرؔ ریحان پہلے تھا
زمانے کی ہَوا نے کردیا ہُشیار اب مجھ کو
وگرنہ معتبرؔ اک سیدھا سا انسان پہلے تھا
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






