ڈوبتے ہوئے بادبانوں كو بچايا نا خداؤں نے سبھی

Poet: By: Neelam, Lahore

وہ ازل سے ہی كسی اور كا تھا ميرا كب تھا،
فلک پر موجود چاند تھا وہ روشن ستارا كب تھا...

جب بھی بڑھايا ہم ہی نے بڑھايا ہاتھ تمہاری طرف،
تمھيں ہماری طرف ہاتھ بڑھانا گوارا كب تھا..

دنيا ميں چاہنے والے اور بہت ہوں گے تمہيں،
ہم نے تمہيں چاہا تم نے ھميں چاہا كب تھا..

ڈوبتے ہوئے بادبانوں كو بچايا نا خداؤں نے سبھی،
جب بھی ڈوبی ہوں ميں تمہارا سہارا كب تھا..

ہر شب تمہارے انتظار ميں سجائے بازوؤں ميں گجرے،
تم نے كبھی بھی خود كو ميرے لئے سنوارا كب تھا...

لٹا ديا اپنا دل ، اپنی زندگی ، اپنی جان بھی تم پر،
ہم تو صدا تمہارے تھے بس اک تو ہمارا كب تھا..

اعتبار كے ہر موڑ پر وفاؤں سے كھائے دھوكے ہم نے،
كھوئے ہوئے رشتوں ميں صرف تمہارا خسارا كب تھا...

Rate it:
Views: 500
26 Dec, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL