ڈوبتے ہوئے بادبانوں كو بچايا نا خداؤں نے سبھی

Poet: Neelam By: Neelam, Lahore

وہ ازل سے ہی كسی اور كا تھا ہمارا كب تھ
فلک پر موجود چاند تھا وہ روشن ستارا كب تھ

جب بھی بڑھايا ہم ہی نے بڑھايا ہاتھ تمہاری طرف
تمھيں ہماری طرف ہاتھ بڑھانا گوارا كب تھ

دنيا ميں چاہنے والے اور بہت ہوں گے تمہيں
ہم نے تمہيں چاہا تم نے ھميں چاہا كب تھ

ڈوبتے ہوئے بادبانوں كو بچايا نا خداؤں نے سبھی
جب بھی ڈوبی ہوں ميں تمہارا سہارا كب تھ

ہر شب تمہارے انتظار ميں سجائے بازوؤں ميں گجرے
تم نے كبھی بھی خود كو ہمارے لئے سنوارا كب تھ

لٹا ديا اپنا دل  اپنی زندگی  اپنی جان بھی تم پر
ہم تو صدا تمہارے تھے بس اک تو ہمارا كب تھ

اعتبار كے ہر موڑ پر وفاؤں سے كھائے دھوكے ہم نے
كھوئے ہوئے رشتوں ميں صرف تمہارا خسارا كب تھ

Rate it:
Views: 965
29 Dec, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL