ڈوبیں گے ہم ضرور مگر نا خدا کے ساتھ
Poet: ارشد ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiآیا ہے آج وہ بھی ہماری قضا کے ساتھ
ڈوبیں گے ہم ضرور مگر نا خدا کے ساتھ
ایسا نہیں کے ہر بار ہی کر جائیں در گذر
کچھ فیصلے سنانے ہیں ان کو سزا کے ساتھ
محشر میں تم رہو گے چپ اور ہم کو دیکھنا
بولیں گے سب خدا سے ہم آہ و بکا کے ساتھ
کیسے رکھوں میں رابطہ اس بے وفا سے اب
اس نے لیئے ہیں وعدے بڑی التجا کے ساتھ
ممکن نہیں بھلا دیں کبھی ایک پل تمہیں
کرتے ہیں پیار تم سے اسی انتہا کے ساتھ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






