ڈھلتی عمر
Poet: Javed Mirza By: Muhammad Javed Mirza, Nowsheraدرد کی دُکھ کی بات کرنی ہے
نارسا سُکھ کی بات کرنی ہے
حوصلہ اب جواب دینے لگا
بے وفاؤں کی با ت کرنی ہے
یا د دل میں بسا کے رکھی ہے
بُھول جانے کی بات کرنی ہے
عمر رفتہ تو ہاتھ سے نکلی
خستہ حالی کی با ت کرنی ہے
دل بھی اب بیٹھ بیٹھ جاتا ہے
ڈھلتی عمروں کی بات کرنی ہے
چاندنی اُس کے سر بھی اتری ہے
اور کچھ اپنی با ت کر نی ہے
دید کا شوق تو سوا ہی ہو ا
آنکھ میں دھند کی بات کرنی ہے
دل میں رکھے چرا غ بُجھ بھی گئے
اب تو جانے کی بات کرنی ہے
شباب لیلی و مجنو ں امر ہوا تو ہوا
ہمیں تو اپنے نصیبوں کی بات کرنی ہے
ڈوب لے ہجر کا یہ د ن ٹھرو
وصل کی شب کی بات کرنی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






