ڈھنگ کا کوئی کام کرنا نہیں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالڈھنگ کا کوئی کام کرنا نہیں
سو ہوا طے کہ اب سدھرنا نہیں
وہ مروت کہ بس بتاؤں کیا
روٹھنا اب بھی ہے مکرنا نہیں
اِک یہی بات ٹھان رکھی ہے
کچھ بھی کر لُوں کمال کرنا نہیں
نہیں طاقت مزاج سہنے کی
جو بھی ہو اب لحاظ کرنا نہیں
وقتِ رخصت گزر گیا کب کا
ایسا کیا ہے جو اب گزرنا نہیں
تم ہو وہ نشّہ جان جاں جس نے
تا قیامت کبھی اُترنا نہیں
اے مسیحا جو بَن پڑے کر لے
زخم ہے دِل لگی کا بھرنا نہیں
ہے زمینی مگر یہ چال چلن
تُو اُتر، آسماں نے گرنا نہیں
اک نصیحت جو کی تھی اُس نے مجھے
یاد آئی بھی یاد کرنا نہیں
صرف اِسی بات نے سنبھالا مجھے
میں سمیٹوں گی تم بکھرنا نہیں
اور کسی سے کہو کہ مر جائے
ابھی جینا ہے مجھ کو مرنا نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






