ڈھونڈ ہی لیتا
Poet: SAIF ASHIR By: SAIF ASHIR, ISLAMABADنکل کر قصر سے تیرے ٹھکانہ ڈھونڈ ہی لیتا
میں کوئی ٹوٹا پھوٹا آشیانہ ڈھونڈ ہی لیتا
خدا کی سر زمیں پر کچھ نہ کچھ تو مل ہی جانا تھا
کوئی بھوکا پرندہ آب و دانہ ڈھونڈ ہی لیتا
اگر تم صاف کہہ دیتے کہ اس گھر سے نکل جاؤ
تو میں اپنے لئے کوئی ٹھکانہ ڈھونڈ ہی لیتا
بھرم رہتا تمہاری اور میری نیک نامی کا
جدائی کے لئے میں کوئی شانہ ڈھونڈ ہی لیتا
سفر تو کاٹنا ہی تھا کسی صورت مجھے آخر
کوئی چہرہ کوئی منظر سہانہ ڈھونڈ ہی لیتا
بھرے بازار میں تحلیل جیسے ہو گیا کوئی
وگرنہ آج اک رشتہ پرانہ ڈھونڈ ہی لیتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






