ڈھونڈیے ڈھونڈیے دل صد پارا
Poet: ZIA ULLAH TAHIR By: ZIA ULLAH TAHIR, ISLAMABAD.ڈھونڈیے ڈھونڈیے دل صد پارا ڈھونڈیے
گیا ہے یار کدھر ہمارا ڈھونڈیے
ہجوم کہکشاں ھے ، بے شمار لیکن
قسمت کا ہماری ستارا ڈھونڈیے
دریائے غم میں ، ڈبونا ہے کشتی
مت کوئی ساحل ، کائی کنارا ڈھونڈیے
فدا ہونے کا ، جب ارادہ ہو کوئی
ابرو کا ان کے اشارا ڈھونڈیے
بہر فاتحہ جو اٹھا دے ہاتھ
دوست کوئی ایسا خدا را ڈھونڈیے
دلوں کو جو سکون دائم بخشے
گلشن دہر میں وہ نظارا ڈھونڈیے
تقاضہ ہے طاہر ، غیرت کا یہی
مر جایئے ، نہ کوئی سہارا ڈھونڈیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






