کئی بدنامیاں ہوتیں کئی الزام سر جاتے
Poet: Yaseen Shahi By: Yaseen Shahi, Islamabadکئی بدنامیاں ہوتیں کئی الزام سر جاتے
مگر اے کاش ہم دونوں ہمی دونوں پہ مر جاتے
اگر تم خواب ہوتے تو تمھیں آنکھوں میں رکھ لیتے
نہ گویا نیند سے پھر جاگتے حتیٰ کے مر جاتے
اگر ہم روشنی ہوتے تو پھر احساس کی لو سے
زمیں کو چھوڑ دیتے مل کے دونوں چاند پر جاتے
اگر تم پھول ہوتے تو تمہاری خوشبو میں رہتے
سمندر کی طرح ہوتے تو ہم تم میں اتر جاتے
ہمارے خال و خد کیسے ہیں یہ اب تک نہیں دیکھا
اگر تم آئنہ ہوتے تو ہم کتنے سنور جاتے
تمھارے حسن پہ پہرہ ہمارے عشق کا ہوتا
جواں رکھتے سدا تم کو اگر لمحے ٹھہر جاتے
اگر سورج ہی ہوتے تو پھر اپنی دھوپ کی صورت
وجود یار کی دھرتی پہ شاہی ہم بکھر جاتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






