کئیں پاگل ہوئے کئیں کے سر گئے
Poet: جہانزیب کُنجاہی دمشقی By: جہانزیب کُنجاہی دمشقی, بغداد/عراقتیری پناہ میں آئے تو سنور گئے
مقام اتنے ملے خوشی سے مر گئے
وہ جن کا چرچا کوبکو کیا ہم نے
ہائے وہ مجھے دیکھ کر مکر گئے
نظر کے سامنے ہی رہتا ہے ہر پل
وہ آئے یہ گئے اِدھر آئے اُدھر گئے
تمہارے سب سوال تھے قاتلانہ
ہم خوشی خوشی صبر کر گئے
تمہیں دیکھ کر کئیں مچل گئے
کئی پاگل ہوئے کئیں کے سر گئے
ہم بنا کاٹھ کے گھوڑا ہیں جناب
ہمارے چاہنے والے سب گزر گئے
بڑا افسوس ہوا یہ سن کر جہاں
کے ہم آج ان کے دل سے اتر گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






