کاش
Poet: muhammad faizan munghiz By: muhammad faizan munghiz, jhelumاے کاش گزر جاتے
واللہ کہ مر جاتے
دنیا سے تو جانا تھا
کچھ اچھا ہی کر جاتے
آنکھوں سے بھی وحشت تھی
زلفوں سے بھی ڈر جاتے
ضد تھی کہ نام اس کے
سولی پہ ہی چڑھ جاتے
ہر بات پہ اسکی ہم
غصے میں بگڑ جاتے
ضد ہی پہ جو اڑ جاتے
دنیا سے ہی لڑ جاتے
ہر چیز ہی واری تھی
دل آتے جگر جاتے
مایوسی سے ہرتے ہی
ہم لوٹ کہ گھر جاتے
ملاقات بھی تھوڑی سی
پل آتے گزر جاتے
کچھ کرتے زرا عشق اور
ہم ہو کے امر جاتے
لمحوں میں ہیں ہم بستے
لمحوں میں اجڑ جاتے
ہر سو رہی ہر جائی
کسی اک پہ ہی مر جاتے
کچھ پل کو ادھر گھومے
کچھ پل کو ادھر جاتے
تنہائی نہیں واں پر
جو لوٹ شہر جاتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






