کاش کوئی ایسا میرا ساجن ھوتا
Poet: JAAN-E-WASHMA By: WASHMA KHAN, MOSCOWکاش کوئی ایسا میرا ساجن ھوتا
مجھہ پر کچھہ الٹا سیدھا لکھتا
اس کے قلم کی موضوں ھوتی
میں اس کی سوچ کی تقلیق ھوتی
کاش کوئی ایسا میرا ساجن ھوتا
میں اس کے ہنٹوں کی گیت ھوتی
وہ میرے گیت گاتامیں رنگ بہ
رنگوں میں بکھرتی وہ مجھے
اپنے رنگوں میں قید کرتا
کاش کوئی ایسا میرا ساجن ھوتا
میں مٹی میں گھونتی رھتی
وہ مجھے اپنا شاھہکار بناتا
کاش کوئی ایسا میراساجن ھوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







