کاش کہ میں چلا جاؤں پھر ماضی میں

Poet: اویس By: اویس, Lahore

کاش کہ میں چلا جاؤں پھر ماضی میں
جب لگتا تھا عید کارڈ صبح آئے گا

میرا ہوتا تھا کامیاب عشق جب
کیا وہ دور دوبارہ بھی کبھی آئے گا

یہ آخری روزہ ہے رمضان کا پھر بس
میرا چاند اپنی ہلکی سی جھلک دکھلاۓ گا

میں نے طے کر رکھا ہے بات کا وقت
امی کے موبائل پر ابھی میسج آئے گا

اب ارادہ ہے آ جاؤں خیالوں سے باہر
بچپن سنگین یادیں دے کہ چلا جائے گا

Rate it:
Views: 369
07 Jul, 2022