کاش کہ میں چلا جاؤں پھر ماضی میں
Poet: اویس By: اویس, Lahoreکاش کہ میں چلا جاؤں پھر ماضی میں
جب لگتا تھا عید کارڈ صبح آئے گا
میرا ہوتا تھا کامیاب عشق جب
کیا وہ دور دوبارہ بھی کبھی آئے گا
یہ آخری روزہ ہے رمضان کا پھر بس
میرا چاند اپنی ہلکی سی جھلک دکھلاۓ گا
میں نے طے کر رکھا ہے بات کا وقت
امی کے موبائل پر ابھی میسج آئے گا
اب ارادہ ہے آ جاؤں خیالوں سے باہر
بچپن سنگین یادیں دے کہ چلا جائے گا
More Sad Poetry






