ہر طرف غموں کے انگنت امبار دیکھتے ہیں

Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mirpurkhas

اسد جھنڈیر ہر طرف غموں کے انگنت امبار دیکھتے ہیں
ہر کوئی رنج والم میں مبتلا گرفتار دیکھتے ہیں

ہر چہرہ دیکھتے ہیں افسردہ افسرہ سا
ہر ذھن شکست خوردہ نا خوشگوار دیکھتے ہیں

خدا جانے خوشیوں کو کس کی نظر لگ گئی
عید پر بھی ماحول نا سازگار دیکھتے ہیں۔۔۔

کیا یہ غربت کے کارن ھے یا پھر کوئی اور وجہ
بہر حال ایک ان چاھا سا مسلط آزار دیکھتے ہیں۔۔۔

ہر ایک اپنا منہ لیے بیٹھا ھے کونے میں۔۔۔
اس ٹج کے کارں رشتوں میں دراڑ دیکھتے ہیں۔

چھوٹے بڑوں کا ادب مانو بھول سے گئے ہیں۔۔۔
گو ہر طرف گستاخی کا گرم بازار دیکھتے ہیں۔

اب کوں جائے کس کی طرف فرصت کہاں کسے۔
یعنی آپ خود میں محدود ہر دوست یار دیکھتے ہیں

نفسا نفسی کا دور ھے اسد جہوں جسطرف دیکھو۔
ہر کوئی خود سے تنگ یعنی بے زار دیکھتے ہیں۔

Rate it:
Views: 298
07 Jul, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL