کاغذ پر لفظوں کی جگہ تنہائی جم جائے تو

Poet: Azad By: Muhammad Zubair, Multan

لکھوں کیا لکھوں تم کو۔۔۔؟
کہ میں جب محبت کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں
میرا ہر لفظ روتا ہے تمہیں بھی خبر ہوں گی کہ جب
کاغذ پر لفظو ں کی جگہ تنہائی جم جائے تو
لکھنا نہ لکھنا بے معنی سا ہو جاتا ہے
کہ جب کرنوں کے رستے میں کوئی دیوار آجائے
تو سورج کا نکلنا‘ دن کا ہونا روشنی کا پھیلنا
سب اپنی اپنی معنونیت کھونے لگتا ہے کہ
جب ہجر کی لمبی راتوں کے دکھ کوئی نہ جانے
روتی اداس شاموں کے دکھ کوئی نہ بانٹے
تو پھر سانسوں کا بوجھ دل میں لئے کب تک جئیں
تو پھر محبت کے بارے میں کچھ بھی کیسے لکھیں
جب کوئی بہت اپنا بچھڑ جائے شہر محبت اک پل میں اجڑ جائے
جب ہر طرف ٹوٹے خوابوں کی راکھ اڑنے لگے
کسی کے ساتھ گزرے لمحوں کی پرچھائیاں ستانے لگیں
کہ جب اسے ہی آزمانے لگیں تو پھر تم ہی بتاؤ نا کیا لکھوں
روگ چاہت کا دل میں بسا کے
جیے جانا کتنا مشکل ہے
یوں بچھڑ کے تم سے اجنبی دیس جانا کتنا مشکل ہے
کہ جو لوگ عشق سمندر میں تہ آب ہوجاتے ہیں
انہیں یوں کنارہ نہیں ملتا
تمہیں بس اتنا ہی لکھنا ہے سحر
یہاں جو بچھڑ جائے
دوبارہ پھر نہیں ملتا

Rate it:
Views: 741
02 Sep, 2010
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL