کاغذوں میں جو ابھی میری صدا زندہ ہے

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

کاغذوں میں جو ابھی میری صدا زندہ ہے
مر گیا ہوں میں مگر فن تو مرا زندہ ہے

انس کے سامنے جھکنا نہیں آتا مجھ کو
میں ہوں مزدور صدا میری انا زندہ ہے

تب تلک مجھ کو کوئی آنچ نہیں آ سکتی
جب تلک ساتھ مرے ماں کی دعا زندہ ہے

مجھے رہنا ہے ابھی ہجر کی زد میں کچھ دن
کہ ابھی دل میں مرے پیار ترا زندہ ہے

میں نے صدیوں کی مسافت سے یہی سیکھا ہے
مرتا انسان ہے کردار سدا زندہ ہے

جب تلک جان گنواتے رہے مجھ سے عشاق
تب تلک شہرِ محبت میں وفا زندہ ہے

جس نے بھی جان محبت میں گنوائی باقرؔ
مر کے بھی لوگوں کے ذہنوں میں رہا زندہ ہے

Rate it:
Views: 432
21 Mar, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL