کامران کی کامیابی

Poet: نواب رانا ارسلان By: نواب رانا ارسلان, Ismailabad, Umerkot

پیارے کزن کامران کی کامیابی پہ خاکسار کے چند اشعار

تجھے دیکھ کر اُنچان پہ میرے بیاں کا یہ انداز ہے
چشمِ ارسلان خوشی سے یوں سیلاب ہے

بہار آئی ہے اے مسافر کہ منزل ہے قریب
تو دیکھ راحتِ اہلِ خانہ کہ کس طرح مہتاب ہے

اے مہتاب فشاں تو سبق ہے دہر کے لیے
محنت کش کیلئے ہر چیز یہاں دستیاب ہے

تہی دستی کو تیری حقارت سے دیکھنے والے کامران
حیران تو ہیں، کیوں کہ آج تیرا ہنر افشائے راز ہے

بامراد رہے تو زندگی کی ہر مراد میں
تیرے لیے خاکسار کے یہ چند الفاظ ہے

یوں تو اَن گنت ہے تعریف تیری کامرانی کی
بس اتنا کہہ دوں یار تجھ پہ ہمیں ناز ہے

Rate it:
Views: 945
01 Mar, 2019
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL