کاہے دل پہ روگ لیا
Poet: Muhammad Imran Khan - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarکاہے غم چھایا ہے،دل پہ، کاہے تم ناشاد ہوئے
کاہے ہنستے کھیلتے، کھیلتے یکدم تم برباد ہوئے
کاہے ببوا گھوم رہے ہو، ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے
کاہے دیکھ رہے درواجا، آتے جاتے چلتے ہوئے
کاہے دل پہ روگ لیا، کا عشق کے جھنجٹ میں ہو پڑے
تبو نظر آتے ہو تم، ہر اک سے کچھ لڑے لڑے
یہ عشق کا روگ ہے جالم، جان ہی لے کے چھوڑے گا
نکالے گا سب کام کاج سے، بندھن ناطے توڑے گا
تبو کیوں نہ سوچا، جبو روگ لیا، جگر کو اب کیوں لئے ہو ہاتھاں میں
خواہ مخواہ کی خجل خواری، کچھ بھی آتانہیں ہاتھاں میں
تو بھی کر قسمت پہ یقیں، یوں بھاگم بھاگے پھرو نہیں
ہر اِک آتے جاتے سے یوں، بات بات پہ بھیڑو نہیں
پہلے تو کرنا تھا نہ عشق، جو کیا ہے، تو نبھاؤ اب
نہ ڈرو گہرائی سے اِس کی، بند کرکے آنکھیں، کُود جاؤ اب
جو ہوگا، رب کی منشا ہوگی، اپنی قسمت پہ چلتی نہیں
جو پڑتے نہ اِس چکر میں تو، جان پہ تیری بنتی نہیں
کاہے غم چھایا ہے، دل پہ کاہے تم ناشاد ہوئے
کاہے ہنستے کھیلتے، کھیلتے یکدم تم برباد ہوئے
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






