کاہے دل پہ روگ لیا
Poet: Muhammad Imran Khan - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarکاہے غم چھایا ہے،دل پہ، کاہے تم ناشاد ہوئے
کاہے ہنستے کھیلتے، کھیلتے یکدم تم برباد ہوئے
کاہے ببوا گھوم رہے ہو، ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے
کاہے دیکھ رہے درواجا، آتے جاتے چلتے ہوئے
کاہے دل پہ روگ لیا، کا عشق کے جھنجٹ میں ہو پڑے
تبو نظر آتے ہو تم، ہر اک سے کچھ لڑے لڑے
یہ عشق کا روگ ہے جالم، جان ہی لے کے چھوڑے گا
نکالے گا سب کام کاج سے، بندھن ناطے توڑے گا
تبو کیوں نہ سوچا، جبو روگ لیا، جگر کو اب کیوں لئے ہو ہاتھاں میں
خواہ مخواہ کی خجل خواری، کچھ بھی آتانہیں ہاتھاں میں
تو بھی کر قسمت پہ یقیں، یوں بھاگم بھاگے پھرو نہیں
ہر اِک آتے جاتے سے یوں، بات بات پہ بھیڑو نہیں
پہلے تو کرنا تھا نہ عشق، جو کیا ہے، تو نبھاؤ اب
نہ ڈرو گہرائی سے اِس کی، بند کرکے آنکھیں، کُود جاؤ اب
جو ہوگا، رب کی منشا ہوگی، اپنی قسمت پہ چلتی نہیں
جو پڑتے نہ اِس چکر میں تو، جان پہ تیری بنتی نہیں
کاہے غم چھایا ہے، دل پہ کاہے تم ناشاد ہوئے
کاہے ہنستے کھیلتے، کھیلتے یکدم تم برباد ہوئے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






