کب تلک بھلا میں تجھہ سے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistanکب تلک بھلا میں تجھہ سے
تیرے تصور تیرے دھیان کی سرگوشیوں کو
اپنی روح میں بسا کر تجھ سے ھم کلام کرتی رھو
اب تو خواب بنتے بنتے آنکھیں بھی تھک گئ ھے
جو انتظار کے لمحے بیت گئے
جو فاصلے تھے بڑھ گئے
آنکھوں میں چھپتے رھتے ھیں
یہ یادوں کی باتیں،ٹوٹے ھوئے
شیشوں کی کرچیاں چبتی ھے
میرے دل میں دھڑکنوں کو ڈستی ھے
میری آنکھوں سے اشک
لبوں پر سسکیاں
درد دل کو کب تلک میں دلاسا دیتی رھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






