کب خبر ہوئی مجھ کو رات میری آنکھوں کے پاس کون ٹھہرا تھا
Poet: Smile Pain By: Smile Pain, jehlumبھیگتی ہوئی شب کے بھیگتے اندھیرے میں خواب کتنا گہرا تھا
کب خبر ہوئی مجھ کو رات میری آنکھوں کے پاس کون ٹھہرا تھا
عمر کاٹ دی ساری کیف ِ خود نمائی میں، لذت ِ جدائی میں
آئینہ جو دیکھا تو آئینے کی آنکھوں میں ایک اور چہرہ تھا
راستے میں پڑتا تھا باغ اک عجب جس پر تیرگی برستی تھی
سب درخت کالے تھے شاخ شاخ پر لیکن پھول اک سنہرا تھا
دل سے کہہ دیا ہم نے اب نصیب ہے اپنا عمر بھر کی تنہائی
لیکن ایک سایا سا مضطرب تمنا کا دل کے پاس ٹھہرا تھا
شہر ِ دست بستہ میں کس طرف سے آتا پھر احتجاج کا پتھر
دل فریب وعدوں کے قفل تھے در ِدل پر، جسم و جاں پہ پہرا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






