کب پہنچوگی ٹھکانے
Poet: UA By: UA, Lahoreتم سے ملنے کے لئے ہم نے کئے سو بہانے
پر تم سمجھ نہ پائے اپنی چاہت کے فسانے
کس کس طرح سے روح کے گھاؤ چھپائے ہیں
ان زخموں کی گہرائی کو کوئی بھی نہیں جانے
گرچہ ہمارا دل ہے پر ہم سے بےخبر ہے
انجان مجھ سے ہے مگر یہ تیرا حال جانے
ہم جس کے لئے دنیا سے بیگانہ ہو گئے ہیں
وہ بے خبر ہمارے ہی دل کی لگی نہ جانے
زمیں ہوئی ہے فلک کے ستاروں کے روبرو
لگی آسمان سے آج تو یہ زمیں نظر ملانے
تھوڑی سی محبت نے کیا کیا ہنر سکھائے
اب رات میں لکھتے ہیں تقدیر کے فسانے
عظمٰی تجھے صحرا نوردی راس آگئی ہے
کب تک سفر کروگی کب پہنچوگی ٹھکانے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






