کب کہا غلطیوں سے مبرا ہوں میں
Poet: Hafeez Ullah Hafiz By: Hafeez Ullah Hafiz, peshawarکب کہا غلطیوں سے مبرا ہوں میں
برا کہدو نا مجھے گر برا ہوں میں
تکمیل معراج محبت کے بعد
ابھی ابھی آسمان سےاتراہوں میں
میرے جینے کا سہارا تو ہی تو ہے
جبتک نہیں ہے تو بےآسرا ہں میں
گر پتھر ہے تو تو پھر پھگلتا کیوں نہیں
تیرے عشق میں جو نغمہ سرا ہوں میں
ہوش آئے تو کوئ بتا دے مجھے
جنون میں آکر کیا کر رہا ہوں میں
عقل حفیظ کی بھی حیران حافظ کو دیکھ کر
خندان ہوں اسلیے کہ بے دست و پا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






