کبھی آپ کی راہ کبھی آپ کی نشانیاں دیکھی
Poet: M,masood By: M.masood, Nottinghamکبھی آپ کی راہ کبھی آپ کی نشانیاں دیکھی
اب ہم کیا بتائیں کہ ہم نے کتنی تنہائیاں دیکھی
سنا ہے بس گیا ہے وہ کسی اور کا گھر بسا کے
ہم نے تو عمر میں صرف چار دیواریں ہی دیکھی
ہر وقت ہمیں اب تو انتظار خوفِ قضا لگا رہتا ہے
ہم تو جیۓ ہی اس طرح کہ زندگی ہی نہیں دیکھی
پڑے اُن پر کبھی ایک نظر تو ہر روز نیا دن نکلتا ہے
ہم نے تو اُن کی آنکھوں میں اپنی سحر نہیں دیکھی
اِس راہ کی منزل کا کوئ ٹھکانہ بھی نہیں اب کوئ
ہم جس طرف بھی چل دیے اپنی آوارگی ہی دیکھی
ہماری اب تو قطاروں میں گزرتی ہے ہر شام آج کل
خود کو خیال بھی نہ رہا اب ایسی بے خودی دیکھی
ہمیں جس کا کچھ گلہ نہیں اُس کا رونا بھی اب کیسا
مسعود اب چاروں موسم گیۓ پھر بھی بارشیں دیکھی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






