کبھی آپ کی راہ کبھی آپ کی نشانیاں دیکھی

Poet: M,masood By: M.masood, Nottingham

کبھی آپ کی راہ کبھی آپ کی نشانیاں دیکھی
اب ہم کیا بتائیں کہ ہم نے کتنی تنہائیاں دیکھی

سنا ہے بس گیا ہے وہ کسی اور کا گھر بسا کے
ہم نے تو عمر میں صرف چار دیواریں ہی دیکھی

ہر وقت ہمیں اب تو انتظار خوفِ قضا لگا رہتا ہے
ہم تو جیۓ ہی اس طرح کہ زندگی ہی نہیں دیکھی

پڑے اُن پر کبھی ایک نظر تو ہر روز نیا دن نکلتا ہے
ہم نے تو اُن کی آنکھوں میں اپنی سحر نہیں دیکھی

اِس راہ کی منزل کا کوئ ٹھکانہ بھی نہیں اب کوئ
ہم جس طرف بھی چل دیے اپنی آوارگی ہی دیکھی

ہماری اب تو قطاروں میں گزرتی ہے ہر شام آج کل
خود کو خیال بھی نہ رہا اب ایسی بے خودی دیکھی

ہمیں جس کا کچھ گلہ نہیں اُس کا رونا بھی اب کیسا
مسعود اب چاروں موسم گیۓ پھر بھی بارشیں دیکھی

Rate it:
Views: 608
11 Oct, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL