کبھی اس سے ماتھا لگا کر تو دیکھو
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگکبھی اس سے ماتھا لگا کر تو دیکھو
فلک کوئی سر پہ اٹھا کر تو دیکھو
پلک بھی جو جھپکوں تو اندھا ہو جاؤں
حِجابوں سے باہر تم آ کر تو دیکھو
مرا عشق بھی طور سے کم نہیں ہے
مجھے اِک تجلّی دِکھا کر تو دیکھو
فلک چِیر کر جو پہنچ جاۓ اس تک
صدا کوئی ایسی لگا کر تو دیکھو
اندھیروں کا بھی کچھ الگ ہی سکوں ہے
کبھی دِیپ سارے بجھا کر تو دیکھو
بہت کر لیا تم نے کعبے کو سیدھا
ذرا آج سجدے میں جا کر تو دیکھو
میں زم زم سمجھ کر نہ پی لوں تو کہنا
ہَلاہل سہی ، تم پلا کر تو دیکھو
تری دھڑکنیں ساتھ دیتی ہیں کتنا ؟
چلو آج اس کو بھلا کر تو دیکھو
تو زندہ بھی ہے یا کہیں مر گیا ہے؟
ذرا خود کو دیپک ہِلا کر تو دیکھو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






