کبھی اندھیار چٹکی میں ، کبھی اُجیار چٹکی میں

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

کبھی اندھیار چٹکی میں ، کبھی اُجیار چٹکی میں
کبھی انکار چٹکی میں ، کبھی اقرار چٹکی میں

بھلے مل جائے گا ہر چیز کا بازار چٹکی میں
نہیں بِکتا کبھی لیکن کوئی خوددار چٹکی میں

بہت تھے ولولے دل کے مگر اب سامنے ان کے
اُڑن چھو ہو گئی ہے طاقتِ گفتار چٹکی میں

عجب تقریر کی ہے رہنما نے امن پر یارو
نکل آئے ہیں چاقو تیر اور تلوار چٹکی میں

طریقہ ، قاعدہ ، قانون ہیں الفاظ اب ایسے
اُڑاتے ہیں جنہیں کچھ آج کے اوتار چٹکی میں

کبھی خاموش رہ کر کٹ رہے ریوڑ بھی بولیں گے
کبھی خاموش ہوں گے خوف کے دربار چٹکی میں

وہ جن کی عمر ساری کٹ گئی خوابوں کی جنت میں
حقیقت سے کہاں ہوں گے بھلا دوچار چٹکی میں

نتیجہ یہ بڑی گہری کسی سازش کا ہوتا ہے
نہیں ہلتے کسی گھر کے در و دیوار چٹکی میں

ڈرا دے گا تمہیں گہرائیوں کا ذکر بھی ان کی
جو دریا تیر کے ہم نے کئے ہیں پار چٹکی میں

پرندے اور تصور کے لئے سرحد نہیں ہوتی
کبھی اِس پار چٹکی میں ، کبھی اُس پار چٹکی میں

بس اتنا ہی کہا تھا شہر کا موسم نہیں اچھا
سزا کا ہو گیا سچ کہہ کے دِوِج حقدار چٹکی میں

Rate it:
Views: 574
07 Sep, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL