کبھی ایسا بھی ہوتا ہے

Poet: UA By: UA, Lahore

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
گھٹن جب حد سے بڑھتی ہے
ہوائیں رخ بدلتی ہیں اچانک رت بدلتی ہے
کسی معصوم دل کی حسرتیں جب ٹوٹ جاتی ہیں
تو پھر ٹوٹی ہوئی کرچی میں اک تصویر بنتی ہے
پھر اس تصویر کے ہونٹوں پہ فریادیں مچلتی ہیں
یہی فریاد اس دل سے دعا بن کر نکلتی ہے
یہ سچ ہے جو صدا دل سے دعا بن کر نکلتی ہے
یہی تو وہ دعا ہے جو ہوا کا رخ بدلتی ہے
یہی تو وہ صدا ہے جو زمانے کو بدلتی ہے
دعائیں رقص کرتی ہیں صدائیں رقص کرتی ہیں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
گھٹن جب حد سے بڑھتی ہے
ہوائیں رخ بدلتی ہیں اچانک رت بدلتی ہے

Rate it:
Views: 854
03 Nov, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL