کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreکبھی ایسا بھی ہوتا ہے
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
گھٹن جب حد سے بڑھتی ہے
ہوائیں رخ بدلتی ہیں اچانک رت بدلتی ہے
کسی معصوم دل کی حسرتیں جب ٹوٹ جاتی ہیں
تو پھر ٹوٹی ہوئی کرچی میں اک تصویر بنتی ہے
پھر اس تصویر کے ہونٹوں پہ فریادیں مچلتی ہیں
یہی فریاد اس دل سے دعا بن کر نکلتی ہے
یہ سچ ہے جو صدا دل سے دعا بن کر نکلتی ہے
یہی تو وہ دعا ہے جو ہوا کا رخ بدلتی ہے
یہی تو وہ صدا ہے جو زمانے کو بدلتی ہے
دعائیں رقص کرتی ہیں صدائیں رقص کرتی ہیں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
گھٹن جب حد سے بڑھتی ہے
ہوائیں رخ بدلتی ہیں اچانک رت بدلتی ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






