کبھی ایسا نہیں ہوتا
Poet: UA By: UA, Lahoreکبھی ایسا نہیں ہوتا
کبھی ایسا نہیں ہوتا
کہ رات آئے تو پھر
اس رات کی صبح نہیں ہوتی
اندھیرا چھا بھی جائے تو
اجالا ہو کے رہتا ہے
رات کتنی ہی کالی ہو
سویرا ہو کے رہتا ہے
کبھی ایس نہیں ہوتا
کہ شب کی تیرگی کو چیرنے
خورشید نہ آئے
اندھیری بستیوں کو
نور کی چادر نہ پہنائے
نہیں ایسا نہیں ہوتا
کبھی ایسا نہیں ہوتا
اگر ایسا نہیں ہوتا
تو پھر اجڑے گلستاں میں
دوبارہ پھول نہ کھلتے
کبھی پنچھی نہیں آتے
نہ میٹھے گیت ہی گاتے
کبھی سوکھی ہوئی ٹہنی پہ
نئی کونپل نہ بن پاتی
کوئی کلی نہ کھل پاتی
بھنورے جھوم نہ جاتے
کہیں تتلی نہ اٹھلاتی
عنادل گیت نہ گاتے
مگر ایسا نہیں ہوتا
کبھی ایسا نہیں ہوتا
چمن میں گل بھی کھلتے ہیں
پرندے چہچہاتے ہیں
ہوائیں سرسراتی ہیں
کلیاں بھی چٹکتی ہیں
بھنورے جھوم اٹھتے ہیں
پھول جلوہ دکھاتے ہیں
عنادل گیت گاتے ہیں
کہ جب خوشبو بکھرتی ہے
فضائیں مسکراتی ہیں
خزائیں بھاگ جاتی ہیں
بہاریں لوٹ آتی ہیں
اسی لئے تو کہتے ہیں
کبھی ایسا نہیں ہوتا
کبھی ایسا نہیں ہوتا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







