کبھی تصویرسجائ ہے
Poet: سید ننگیال By: سید ننگیال, Mardanکبھی تصویرسجائ ہے؟
کبھی بھی خط لکھا تم نے؟
کبھی میں سوچھتا ہوں کہ،
یہ دل حیراں ہے کیوں میرا؟
مگر یہ یاد آتا ہے،
کبھی گمنام تھا یہ دل،
کبھی ٹوٹا ہوا تھا یہ
کبھی تصویر کو تکتے ہوۓ
رو پڑے ہو تم؟
یہ مجھ سے نہ ہی پوچھو تو
بہت اچھا لگے گا یہ
بہت گھنمبھیر باتیں ہیں
بہت دل چھیر باتیں ہیں
محبت کے کرینوں میں
بہت دل ٹوٹتے ہیں یوں
کبھی پُر سوز لحجے میں
کسی نے بات کی تم سے؟
اگر کی ہے تو یاد رکھنا
محبت کر چکا ہوگا
کبھی تیور بدلنے میں
زرا سا وقت لگتا ہے
کبھی تیور بدلنے میں
زمانے بیت جاتے ہیں
کبھی جھوٹی نہیں ہوتیں
یہ آنکھیں یار کی جانا
کبھی دھوکا نہیں دینگی
کسی کی آنکھ کی کروٹ
میں جس کی بات کرتا ہوں
وہ ہے بڑا ظالم
میں جس کی بات کرتا ہوں
میں اُس پر ہار بیٹھا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






