کبھی تو آکے غموں سے مجھے چھڑانے کی

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

اداس ہوگی بہت اب نہ مسکرانے کی
یہ زندگی نہ کبھی پھر سے آزمانے کی

میں سادہ دل ہوں مگر سادگی سے کیا پایا
نہ راس پہلے یہ آئی نہ راس آنے کی

سہوں گی کیسے بھلا زخم بے وفائی کا
نہ داغ دل سے مٹے گا کبھی مٹانے کی

نجانے کتنے پرندوں کے گھونسلے بکھرے
بس ایک گھر کے لئے تھا شجر گرانے کی

ہے آندھیوں کی تو فطرت تباہ کر دینا
بجھے گا دیپ ہوا مین اگر جلانے کی

مرے مزاج کی دنیا نہیں ہے یہ دنیا
مجھے تو چاہئے دنیا سے دور جانے کی

ہے انتظار مجھے تو اب تو موت کا وشمہ
کبھی تو آکے غموں سے مجھے چھڑانے کی

Rate it:
Views: 669
15 Dec, 2018
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL