کبھی تو مسکراتے ہیں

Poet: UA By: UA, Lahore

ستم کرنے سے پہلے وہ کبھی تو مسکراتے ہیں
کبھی حد سے زیادہ چاہتیں ہم سے جتاتے ہیں

کبھی زمیں سے اٹھا کر آسمانوں پر بٹھاتے ہیں
کبھی عرشوں سے فرشوں پہ ہم کو لا بٹھاتے ہیں

کبھی کہتے ہیں کہ تم ہمارے دل میں رہتے ہو
کبھی میری نگاہوں میں وہ مجھ کو گراتے ہیں

مجھے غم کے اندھیروں میں اکثر چھوڑ جاتے ہیں
وہی میرے دل میں امیدوں کی نئی شمع جلاتے ہیں

میرے دل کی حالت سے کبھی انجان رہتے ہیں
کبھی حد سے زیادہ مہرو الفت بھی جتاتے ہیں

یہی ان کی عنایت ہے یہی ان کی محبت ہے
ہم ان کی ہر عنایت کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں

ہمیں عظمٰی نہ جانے کیوں انہی پہ اعتبار ہے
ہمیشہ جو ہماری چاہتوں کو آزماتے ہیں

Rate it:
Views: 1187
06 Mar, 2009
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL