کبھی تَم نے سَنی ہے میرے دل کی آواز اپنے دل کے قریب سے
Poet: UA By: UA, Lahoreکبھی تم نے سَنی ہے میرے دل کی آواز اپنے دل کے قریب سے
جیسے میں سنتی ہوں تمہارے دل کی آواز اپنے دل کے قریب سے
کبھی تم نے مجھے گزرتا ہوا محسوس کیا ہے اپنے قریب سے
جیسے میں تمہیں گزرتا ہوا محسوس کرتی ہوں اپنے قریب سے
کبھی میری یاد میں ستارے ٹمٹماتے ہیں تمہاری پلکوں کے قریب سے
جیسے تمہاری یاد میں ستارے ٹمٹماتے ہیں میری پلکوں کے قریب سے
کبھی میری سرگوشیاں سَنائی دیتی ہیں تمہاری سماعتوں کے قریب سے
جیسے تمہاری سرگوشیاں سَنائی دیتی ہیں میری سماعتوں کے قریب سے
کبھی میرے خیال کی خوشبو تمہیں مہکاتی ہے آ کے قریب سے
جیسے تمہارے خیال کی خوشبو مجھے مہکاتی ہے آ کے قریب سے
کبھی میرا ذکر دھنک کے رنگ بکھیرتا ہے تمہارے چہرے پہ قریب سے
جیسے تمہارا ذکردھنک کے رنگ بکھیرتا ہے میرے چہرے پہ قریب سے
کبھی مجھے سوچتے ہوئے روشنی گزرتی ہے تمہارے سائے کے قریب سے
جیسے تمہیں سوچتے ہوئے روشنی گزرتی ہے میرے سائے کے قریب سے
کبھی تم نے سَنی ہے میرے دل کی آواز اپنے دل کے قریب سے
جیسے میں سنتی ہوں تمہارے دل کی آواز اپنے دل کے قریب سے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






