کبھی جب ہاتھ میں غالب کا ہم دیوان لیتے ہیں
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi (Arshi), Karachiکبھی جب ہاتھ میں غالب کا ہم دیوان لیتے ہیں
تو پھر ہم شاعری کے علم کو بھی جان لیتے ہیں
سبھی کچھ دے دیا لیکن تسلی پھر نہیں ہوتی
کبھی دل لیتے ہیں میرا کبھی وہ جان لیتے ہیں
میں کیسے مان لوں ان کو کہ وہ انسان ہوتے ہیں
کسی کے کہنے سے جو کسی کی بھی جان لیتے ہیں
کہانی جب کبھی ہم اپنی بربادی کی لکھتے ہیں
بتائیں ہم تجھے کے ہم ترا عنوان لیتے ہیں
کدورت دل میں جو رکھتے ہیں وہ برباد ہوتے ہیں
پیار ان کو نہیں ملتا وہ دنیا چھان لیتے ہیں
سرِ محفل جو آکر ہاتھ میرا تھامتے ہیں وہ
مرے دل میں پھر انگڑائی کئی ارمان لیتے ہیں
وفا کے نام سے واقف نہیں تھے کل تلک جو بھی
وفا کو تولنے کی خاطر اب میزان لیتے ہیں
جو اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں انہیں ہم جان لیتے ہیں
بڑوں کی بات سن کر وہ ادب سے مان لیتے ہیں
یوں خسرو، داغ، اقبال اور جگر سب یاد آتے ہیں
کبھی جب ہاتھ میں غالب کا ہم دیوان لیتے ہیں
ضرورت ہی کیا ہے ہم سے اب یوں منہ چھپانے کی
ترے چہرے کو ہم لاکھوں میں بھی پہچان لیتے ہیں
ذرا سی نیند کی خاطر ترستی ہیں کیوں آنکھیں
ہجر کے رت جگے اب کیوں ہماری جان لیتے ہیں
بہت سے لوگ ایسے ہیں کسی سے کچھ نہیں کہتے
بہت خودار ہوتے ہیں نہ وہ احسان لیتے ہیں
پرندے بھی نہیں آتے یہاں وہ جانتے ہیں کے
یہاں تو جان انسانوں کی ہی انسان لیتے ہیں
جہاں پر قتل ہوتے ہوں کوئی روکے نہیں ان کو
وہاں معصوموں پر بھی وہ نشانہ تان لیتے ہیں
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






