کبھی حال ِدل بھی کہا کر
Poet: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی By: سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی, Faisalabad, Punjab, Pakistanہر غم یونہی نہ سہا کر
کبھی حال ِدل بھی کہا کر
میری جدائی میں خوش رہ
میری قربتوں سے ڈرا کر
میری ذات میں ہیں اداسیاں
میری بات کا نہ گلہ کر
بکھر نہ جائے میری طرح
مرے ساتھ ساتھ نہ چلا کر
جو کہا تھا اس کا پاس رکھ
ہر بات یونہی نہ کیا کر
میری مسکراہٹ نہ دیکھ تو
میری آنکھوں کو پڑھا کر
خاموشیوں سے کر دوستی
سرگوشیاں بھی سنا کر
تجھے ہو نہ جائے عشق کہیں
مجھے روز روز نہ ملا کر
اب ہو نہ کوئی بے وفا
آج دل سے عنبر دعا کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






