کبھی شام ڈھلے چھاؤں میں
Poet: Sadia Amber Jilani. By: Sadia Amber Jilani., FaisalAbadکبھی شام ڈھلے چھاؤں میں
تم آؤ ھمارے گاؤں میں
جب چاند باتیں کرتا ھو
جب رات ستارے گنتی ھو
خنک ھو دھیرے سے ذر
لھرا کر خوش بو لاتی ھو
جب یادوں کے منجدھار میں
دل دھیرے دھیرے اترتا ھو
کسی بیتے لمحے کو پانے
بچے کی طرح مچلتا ھو
ایسے میں تم بھی آ جاؤ
کسی یاد کو پھر سے دہرانے
ویران جزیرے جسے دل کو
ساون کی طرح مہکانے
جس دل میں تم رہتے ہو
اس کی اپنی راہوں میں
کبھی شام ڈھلے چھاؤں میں
تم آؤ ہمارے گاؤں میں.
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







