کبھی غُبار دل کے لفظوں کی صورت نکالے جاتے ہیں

Poet: Majassaf Imran By: Majassaf Imran, Gujrat

کبھی غُبار دل کے لفظوں کی صورت نکالے جاتے ہیں
کبھی آنسوں اشعارکی صورت میں نکالے جاتے ہیں

کبھی زخم خوشیوں کی صورت میں چُھپالئے جاتے ہیں
کبھی زندگی کے شکنجهے دل میں دبا لئے جاتے ہیں

میری بھی مہکے گی زندگی کبھی روشن آفتاب کی طرح
خواب ہونٹوں پہ سجا کے اشکوں سے گرا دیے جاتے ہیں

عشق کا سمندر جب گرا نہیں سکتا سنگ دِل کی دیواریں
پھر اپنے ہی لہو سے صاحب چراغ بھوجا دیے جاتے ہیں

ہوتا ہے شہر میں شور و گُل ہائے کوئی جان سے گیا
جب کسی وارکرفت میں درد کے امبار لگادیے جاتے ہیں

فقط ڈھیر ہی راہ جاتا کسی جای منزوی میں نفیس
جب زندگی پہ لگے اشتباه داستان مٹا دیے جاتے ہیں

Rate it:
Views: 453
04 Apr, 2017
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL